Wednesday, 4 July 2018

غیر عربی لفظوں میں طلاق دینا یا نکاح کرنا

عام طور پر فقہ کی کتابوں میں طلاق اور نکاح کے لیے عربی کے الفاظ موجود ہوتے ہیں۔ جیسے انت طالق یا تزوجتک وغیرہ۔ لیکن ظاہر ہے جہاں عربی نہیں بولی جاتی وہاں نکاح اور طلاق کے لیے اپنی زبان ہی استعمال ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی مادری زبان میں نکاح کرے یا طلاق دے تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے


No comments:

Post a Comment