Monday, June 14, 2021

اسلام میں خواتین کا تجارت کرنا

 کیا اسلام میں خواتین کی تجارت کی اجازت ہے؟
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ہو، اسلام نے تشنگی باقی نہیں رکھی، ہر مقام پر اسلام کے رہنما اصول موجود ہیں جن کی روشنی میں معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتاہے۔ معاملہ خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، سیاسی ہو یا معاشرتی، اسلام مایوس نہیں کرتا اور مکمل رہنمائی کرتاہے۔ اسلام نے آتے ہی ایک مضبوط نظام معیشت متعارف کروایا۔

کرہ ارض پر موجود تمام جائز وسائل وذرائع معیشت میں استعمال ہوسکتے ہیں، اسلام نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ معاشی استحکام کے لیے ہر جائز طریقہ اختیار کیا جاسکتاہے۔ ممنوع صرف وہ ذرائع وسائل ہیں جن کے بارے قرآن وحدیث میں ممانعت آتی ہے یا جن سے دوسرے مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہو۔

ارشاد باری تعالی وجعلنا لکم فیہا معائش۔ ہم نے تمہارے لیے زمین میں معیشت کے سامان بنائے۔ حضورﷺ کی زندگی ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ احادیث مبارکہ کی روشنی میں معیشت کی درستگی کے بارے میں بھرپور ترغیب ملتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے بے شک سب سے عمدہ کھانا وہ ہے جو انسان اپنی کمائی سے کھائے۔ قرآن وحدیث میں جہاں جہاں حلال رزق کمانے کی ترغیب وارد ہوئی ہے، وہاں مردوں کی کوئی تخصیص نہیں۔ اسلام میں مرد وعورت سب برابر ہیں، معیشت کے حوالے سے حقوق یکساں ہیں۔ سب کو کاروبار اور ملازمت کی اجازت ہے بشرطیکہ دینی حدود کی پاسداری ہو۔

 یہی وجہ ہے عہد نبوی میں جہاں مردوں کا تجارت کرنا اور کاروبار میں مشغول ہونا ثابت ہے، وہاں عورتیں بھی پیش پیش نظر آتی ہیں۔ پہلے زمانے کی خواتین کا طرز عمل آج کی خواتین کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ ویسے تو معیشت کے لیے بے شمار راستے ہیں جن کو خواتین استعمال کرسکتی ہیں، لیکن عہد نبوی میں خواتین کی معیشت میں سب سے زیادہ سرگرمی تجارت میں ملتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا ہیں۔

الطبقات الکبری میں مذکور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا تجارت کے لیے مردوں کو ساتھ ملاتی تھیں وہ اس طرح کہ سرمایہ آپ رضی اللہ عنہا کا ہوتا لیکن کام سارا مرد کیا کرتے تھے۔ جو نفع ہوتا وہ حضرت خدیجہ اور ان کے مردوں کے درمیان مشترک ہوتا تھا۔ حضرت خدیجہ کی ایک بہن تھیں جن کا نام ہالہ بنت خویلد تھا،ان کے بارے میں منقول ہے وہ چمڑے کا کاروبار کرتی تھیں۔

ان کے علاوہ حولاء نام کی ایک خاتون عطر کی تجارت کرتی تھیں اور اس کاروبار میں اتنی منہمک تھیں کہ ان کا نام ہی عطارہ پڑگیا تھا۔

علاوہ ازیں دستکاری بھی ایک پیشہ تھا جس سے عہد نبوی کی خواتین وابستہ تھیں۔ روایت ہے کہ ایک خاتون حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ایک چادر پیش کی ۔ عرض کیا یارسول اللہ میں نے اپنے ہاتھ سے اس پر کشیدہ کاری ہے۔ درج بالا سطور سے ثابت ہوتاہے کہ اسلام خواتین کے کاروبار کی حوصلہ افزائی کرتاہے تاکہ وہ کسی کی دست نگر بن کر نہ رہیں اور معاشی حوالے سے خود کفیل ہوں۔ اگرچہ عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری اسلام نے شوہر پر ڈالی ہے، لیکن اگر خواتین حجاب اور شرعی حدود کی پاسداری کریں اور کوئی جائز کاروبار، ملازمت یا تجارت کریں تو اس سے خاندانی نظام معیشت کو کافی سہارا مل جاتاہے۔